ٹیوٹا بہاولنگر میں کرپشن مافیا کا راج برقرار۔ جعلی حاضریوں پر تنخواہیں جاری۔

بہاولنگر ( ) ٹیوٹا بہاولنگر میں کرپشن مافیا کا راج برقرار۔ جعلی حاضریوں پر تنخواہیں جاری۔ وزٹنگ انسٹرکٹر کی آپریشن کے ذریعے بچے کی پیدائش کے دن بھی حاضری لگا دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق حکومت تبدیل ہونے کے باوجود ٹیوٹا بہاولنگر میں تعینات کرپشن مافیا کا راج برقرار ہے۔ کرپشن مافیا کا جعلی ڈپلومہ جات، جعلی داخلوں اور تقرریوں کے بعد اب جعلی حاضرہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا انکشاف ہوا ہے۔پرنسپل گورنمنٹ ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ برائے خواتین منڈی مدرسہ نے جعلی حاضرہوں کے ذریعے وزٹنگ انسٹرکٹر کو تنخواہیں جاری کر دی ہیں۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ خاتون انسٹرکٹر کالج نہیں آتی۔ اسکی حاضری پرنسپل جعلی لگاتی ہیں۔ ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پرنسپل گورنمنٹ ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ برائے خواتین منڈی مدرسہ ڈسٹرکٹ آفس ٹیوٹا میں تعینات اپنے سرپرست افسران کے ساتھ مل کر طاہرہ نیاز نامی ٹیچر کی تنخواہ آپس میں بانٹ لیتے ہیں۔ کرپشن مافیا کی دیدہ دلیری تب سامنے آئی جب طاہرہ نیاز نامی خاتون کے ہاں بذریعہ آپریشن بچے کی پیدائش ہوئی۔ خاتون کا آپریشن منڈی مدرسہ کے پرائیویٹ ہسپتال میں ہوا۔ ہسپتال ریکارڈ کے مطابق 13 مارچ 2022 کو خاتون کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی۔ مگر پرنسپل نے جعلی حاضریاں لگا کر انسٹرکٹر مذکورہ کی پورے مہینے کی تنخواہ بھی ادا کر دی۔ کالج میں زیر تعلیم طالبات نے نام ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ طاہرہ نیاز نامی انسٹرکٹر کے بارے میں پرنسپل صاحبہ نے ہدایت دے رکھی ہے کہ کوئی بھی آ کر پوچھے تو یہ نہیں بتانا کہ وہ کالج نہیں آتی ہیں۔ انسٹرکٹر مذکورہ و دیگر کی حاضری کے ثبوت کے طور پر سی سی ٹی وی فوٹیج بھی چیک کی جا سکتی ہے۔ نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر ٹیوٹا بہاولنگر میں تعینات ایک آفیشل نے بتایا کہ پرنسپل راشدہ ابراہیم کو ٹیوٹا بہاولنگر کے دو اہم افسران کی سرپرستی حاصل ہے جبکہ پرنسپل کا دعویٰ ہے کہ جب تک ٹیوٹا سیکرٹریٹ میں تعینات ایک اعلیٰ افسر (ر) موجود ہے تب تک ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہو سکتی۔ عوامی، سیاسی ، سماجی و صحافتی حلقوں نے وزیراعلی پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری انڈسٹریز سے مطالبہ کیا ہے کہ کرپشن مافیا کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں