سابق ضلعی صدر پی ٹی آئی چوہدری طاہر انور واہلہ نے کہا ہے کہ اس وقت ملک پر منشیات فروش،قاتل اور ضمانتوں پر رہا عناصر مسلط ہیں

وہاڑی(ڈاکٹر محمد ایوب سے)سابق ضلعی صدر پی ٹی آئی چوہدری طاہر انور واہلہ نے کہا ہے کہ اس وقت ملک پر منشیات فروش،قاتل اور ضمانتوں پر رہا عناصر مسلط ہیں جو ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے ملتان کا جلسہ جنوبی پنجاب کی سیاست کا رخ متعین کر دے گا وہ گزشتہ روز فیصل ٹاؤن میں پریس کانفرنس کررہے تھے اس موقع پر مہر شبیر سیال ، حاجی حنیف اٹال ،لیاقت علی جٹ ،پرویز بھٹی ،راؤطارق محمود ،لال خان بھٹی ،اشتیاق گوجر ،مون میواتی ، اقبال قریشی ودیگر کارکنان بھی موجود تھے چوہدری طاہر انور واہلہ نے کہا ہے کہ یہ المیہ ہے کہ عدالتوں سے مفرور اور اشتہاری لندن میں بیٹھ کر ملک کے فیصلے کر رہے ہیں ہم ملک بچانے کیلئے نکلے ہیں ہم نے ملتان جلسہ اور آزادی مارچ کی مکمل تیاری کر لی ہے ہم گرفتاریوں اور جیلوں میں جانے کے لئے بھی تیار ہیں ۔اس وقت ملک کی صورتحال سری لنکا کے جیسے ہونے والی ہے۔ڈالر 200 روپے کی قریب پہنچ چکا ہے اگر ملک کو بچانا ہے تو چوبیس گھنٹے کے اندر عبوری حکومت تشکیل دی جائے اور ملک میں فری اینڈ فیئر الیکشن کرائے جائیں ان کاکہناتھا کہ عمران خان کی پیٹھ میں جہانگیرترین اور اسحاق خاکوانی نے چھرا گھونپا ہے انہوں نے مل کر سازش کی کہ جنوبی پنجاب میں ایسے لوگوں کو آگے لایا جائے جو صرف اور صرف ان دونوں کے اشاروں پر چلیں ان کاکہنا تھا کہ آصف زرداری نیب سے اپنے کیس ختم کرانے کے بعد کراچی سے 20 سوٹ کیس لے کر دبئی گئے ہمارا سوال ہے کہ ان سوٹ کیسوں میں کیا لے کر گئے تھے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مدینہ منورہ میں جو کچھ ہوا اس پر افسوس ہے لیکن اس پر جے آئی ٹی بنائی جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں مریم نواز قوم کو بیوقوف بنارہی ہے حالانکہ شریف خاندان میں یہ طے ہو چکا ہے کہ اپنی دولت سمیٹ کر بیرون ملک نکل جائیں اور پارٹی شاہد خاقان عباسی کے سپرد کردی جائے ان کاکہنا تھا کہ پاکستان زرعی ملک ہونے کے باوجود زراعت کا شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے کسان فصل کیلئے پانی کی بوند بوند کو ترس رہا ہے لیکن اقتدار کے ہوس میں اندھے حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی پاکستان کو بچانے کا طریقہ صرف یہی طریقہ ہے کہ 24 گھنٹوں میں عبوری حکومت بنائی جائے۔موجودہ حکومت عمران خان کو ایک گھنٹہ بھی جیل میں نہیں رکھ سکتی اس وقت جو صورتحال ہے اس کا تقاضہ ہے کہ پارٹیوں کی بجائے صرف پاکستان بارے سوچناچاہئے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم چیئرمین عمران خان سے اپیل کرتے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں صرف نظریاتی کارکنوں کو ٹکٹ جاری کئے جائیں جو لوگ ذاتی مفادات کیلئے ٹکٹ لے کر پارٹی پالیسیوں کے خلاف چلے جاتے ہیں ایسے عناصر کو پہلے ہی جواب دے دیا جائے تاکہ مخلص نظریاتی کارکنوں کی حوصلہ افزائی ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں