خان اسٹیڈیم

ڈسٹرکٹ فٹ بال ایسوسی ایشن کے ضلعی جنرل سیکرٹری نوابزادہ واجد محمود خان، اور خان فٹبال کلب کے کپتان ظفرانصاری شیخ واجد محمود اور مسرور خان کے ہمراہ خان اسٹیڈیم کا دورہ

خان گڑھ( نمائندہ خصوصی)ڈسٹرکٹ فٹ بال ایسوسی ایشن کے ضلعی جنرل سیکرٹری نوابزادہ واجد محمود خان، اور خان فٹبال کلب کے کپتان ظفرانصاری شیخ واجد محمود اور مسرور خان کے ہمراہ خان اسٹیڈیم کا دورہ کیا اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پانچ سال گزر گئے لیکن گراؤنڈ ابھی تک مکمل نہیں کیا جاسکا نہ گراؤنڈ میں پانی لگانے کے لیے موٹر نہ لگ سکی بلکہ ٹاؤن کمیٹی خان گڑھ سے بجلی کا کنکشن لیکر چھوٹی موٹر سے پانی کا چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے اور گراؤنڈ میں غیر ضروری طور پر محض مبینہ طور پر مبینہ طور پر ہضم کرنے کے لیے پویلین بنایا گیا جس کی وجہ سے اسٹیڈیم چھوٹا ہو گیا اس کے علاوہ گراؤنڈ کے اندر لائٹنگ پول لگائے گئے جس کی وجہ سے گراؤنڈ کی لمبائی چوڑائی کم ہو کر 210 فٹ صر× 210فٹ سے اب کم ہوکر ایک سائیڈ کی پیمائش 195 فٹ اور دوسری سائیڈ کی پیمائش 174 فٹ ہوکر رہ گئی ہے جبکہ ٹھیکیدار نے 200 فٹ×200فٹ کا گراؤنڈ کلیئر کے کر دینا تھا پانی لگانے کیلئے لوہے کے پائپ اور حوضیاں کھیلنے کی حدود اندر بنا دی گئے جس کی وجہ سے کسی بھی کھلاڑی کو شدید چوٹ لگ سکتی ہے اور جانی نقصان بھی ہو سکتا ہے ہے گراؤنڈ کے داخلی راستہ کو جان بوجھ کر 20 فٹ چوڑا کرکے بنایا گیا جس کی وجہ سے مزید اور بدگنیہ ہوگیا اگر لائٹنگ پول کو پیچھے کیا جاتا اور فٹ پاتھ کو چھوٹا کر کے بنایا جاتا تو گراؤنڈ بہتر ہوسکتا تھا جس میں الیون سائیڈ ٹیم نے فٹ بال میچ کھیل سکتی تھی لیکن بد گنیہ ہونے کی وجہ سے اب سیون سائیڈ مشکل سے میچ ہونگے اس کے علاوہ ٹھیکدار نے گراؤنڈ کو 6 فٹ روڈ سے جان بوجھ پارکنگ کا نام دیکر پیچھے کر دیا جس کی وجہ سے اسٹیڈیم چھوٹا ہو گیا ٹھیکدار نے اس جگہ پر ریڑھی بانوں اور ٹھیلے والوں کو کھڑا کیا ہوا ہے جن سے مبینہ طور پر بھتہ وصول کرتا ہے اور روڈ پر نا ریڑھی بانوں اور ٹٹھیلے ہلگنے کی وجہ سے سکول بچیوں کو یہ لوگ چھیڑتے ہیں اور راستہ بند ہو جانے پر سارا دن ٹریفک جام رہتی ہے اسٹیڈیم مکمل نہ ہونے کی وجہ سے کھیلوں کی سرگرمیاں ختم ہوکر رہ گئی اس موقع پر نوابزادہ واجد محمود خان،ظفر انصاری ،شیخ واجد محمود،مسرور احمد خان اور دیگر کھلاڑیوں نے مطالبہ کیا کہ اسٹیڈیم کو جلد از جلد اس قابل بنایا جائے کہ یہاں قومی فٹ بال ٹورنامنٹ منعقد کیا جاسکے اور سپورٹس بورڈ کے چیئرمین سے اس کا نوٹس لیں،

اپنا تبصرہ بھیجیں