"لوٹے اور لیٹرے،نیا پاکستان"

“لوٹے اور لیٹرے،نیا پاکستان”

“لوٹے اور لیٹرے،نیا پاکستان” تحریر جرنلسٹ پرنس شہزاد۔ نظریات سوچوں کو تبدیل کرکے تبدیلی کی جانب راغب کرتے ہیں اور نظریات ہی واضع اور مثبت عمل داری سے لیڈر کی پہچان ہوتی ہوتی ہے لیڈر قوم کی ڈائریکشن اپنے نطقتہ نظر سے واضع کرتے ہوئے انھیں بد حالی اور بحرانوں سے نکالنے کی بہتر سمت دکھاتا ہے۔گزشتہ 15سالوں سے پی ٹی آئی عوام کو تبدیلی کی راہ دیکھاتے دیکھاتے اپنے نطقہ نظر اور اپنے ہی نظریات کی مسلسل نفی کرتے ہوئے خود ہی تبدیل ہو چکی ہے۔پاکستانی قوم کے تمام شعبہ ہائے کے افراد نے اپنی امیدیں چیئرمین عمران سے وابستہ کررکھیں تھیں موجودہ صورتحال میں انکی امیدیں بکھرتی نظر آرہی ہیں پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکن گزشتہ 15سالوں سے جس تبدیلی کی آس پر شب وروز محنت کررہے تھے آج محنت رنگ لانے سے قبل ہی ٹوٹتی بکھرتی اجڑتی نظر آرہی ہے پی ٹی آئی کے سابق ٹکٹ ہولڈرز کی معصومیت پر رحم آتا ہے
جو پانچ سال بے رحم موسموں میں کپتان کے ساتھ شانہ بشانہ تھے اب مایوس ہو چکے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر میڈیا پر “تبدیلی کی بریکنگ نیوز”سے مزید مایوس ہورہے ہیں سوشل میڈیا ،پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا پر “ن لیگ اور پی پی پی”کے لوٹے بھگوڑوں کی آمد کا سلسلہ اس قدر تیزی سے جارہی ہے جیسے تیز آندھی میں آم کے باغات سے آم گرتے ہیں اور کپتان نے پی ٹی آئی کے رومال کا سٹاک منگوا لیا ہے مزید رومالوں کے ٹینڈر بھی جارہی کررکھے ہیں پنجاب کے بعد صوبہ سندھ کے غیور اراکین قومی وصوبائی اسمبلیز رومال پہن کر ڈرائی کلینز ہو کر عمران کی نیا پاکستان کی تبدیلی کے سپاہی بنیں گے۔پی ٹی آئی کے رہنما اور ڈنڈے کھانے اور ناحق جیل کی سیر کرنے والے کھلی آنکھوں سے یہ تماشہ دیکھ کر حیران وپریشان ہیں
بھلا ہو نااہل جہانگیر ترین کا جس نے پی ٹی آئی کو سیاسی جماعت سے لوٹوں کی “ھیرا منڈی”بنا دیا ہے مزید طوافیئں کا آنا ابھی باقی ہے ۔بدقسمتی سے 70،80 اور 90 کی دہائی سے پاکستانی سیاست میں یہی سلسلہ جارہی ہے
نیا جال پرانے شکاری عوام جائیں تو کہاں جائیں کبھی آئی جے آئی،مسلم لیگ ن ق ج اب پیش خدمت ہے پی ٹی آئی یعنی پٹ کر آئی جس پارلمینٹ پر خان کپتان لعنت اور ملامت کرتے تھے پارلمینٹ تو مقدس ہے مگر بیٹھے پارلمینٹرین جنکو آج خان رومال گلے میں ڈال کر گلے لگا رہے ہیں معلوم نہیں کس منہ سے جن کو صاحب کنٹینر پر مکا بنا بنا کر للکار للکار کر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا کرتے تھے جو انہی کے ممبران پر پارلمینٹ میں دست گربیاں ہوتے آج کس منہ ایک ہی پلیٹ فورم پر ایک ہی نظریہ پر کیسے متفق ہوں گے کیا پاکستانی اللہ راسی عوام بیوقوف بننے کے لیے ہیں تبدیلی خان آپکے رہنما اور کارکن اب منہ چھپاتے پھرتے ہیں
جس مسلم لیگ ن کے کارکنوں کے سامنے آپکی ترجمانی کرتے ہوئے انکے گالی نما نعروں کا جواب دے دے کر انکے خشک ہو جاتے تھے آج آپکا کارکن ان لیگی کارکنوں کو گلے لگائے گا جن کے بیٹے آپکی تبدیلی ٹرین کے سفر میں شھید ہوئے انکے اہل خانہ سے پوچھوں انکے دل پر کیا بیت رہی ہیں جنھوں نے پولیس لاٹھیاں کھائیں انکے زخم ابھی ہرے ہیں ان شہیدوں کا پاس تو رکھ لیتے پاکستانی قوم نے آپ میں امید کی کرن دیکھی تھی جو آج روشنی بننے سے پہلے ہی اندھیروں کی چادر اوڑھ چکی ہے موجودہ صورتحال کے بعد آپکی زباں پر دو لفظ بالکل ہی اچھے نہیں لگیں گے ایک تبدیلی اور دوسرا نیا پاکستان خدا کی قسم اب آپکے منہ نکلے یہ دونوں لفظ بھی شرما جاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں